![]() |
| File Photo : M Masroor Jamal Fakhri Azhari |
غصب حرام ہے ارشاد باری تعالی ہے : "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ “ (البقره: ١٨٨) آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام منی میں یوم النحر کے خطبہ میں فرمایا: " بلاشبہ تمہارے خون تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت، اس مہینے اور اس شہر میں ہے- (فتح الباری: ۳۰۳/۱ رقم: ۶۷ - مسلم : 63 - :رقم: ۱۶۷۹)
قارئین کرام! اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کسی مسلمان کی کسی بھی چیز پر غاصبانہ قبضہ کرنا حرام ہے اس پر سب متفق ہیں-حضرت ابوحمید الساعدی رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"کسی آدمی کے لیے اپنے بھائی کی دلی رضامندی کے بغیر اس کی لاٹھی پکڑنا بھی حلال نہیں“۔ اور ایک روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں،۔ (مسند احمد: ۸۷۷/۷- سنن الكبرى: ۱۶۵/۶)معلوم ہوا کہ لوگوں کے اموال بغیر اجازت لینا حرام ہے حتی کہ لاٹھی جیسی معمولی چیز بھی اجازت لینے سے احتراز کرنا چاہیئے جیسا کہ سائب بن یزید عن ابیہ کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی سنجیدگی کی حالت میں ہو یا مذاق کی حالت میں بغیر اجازت اپنے بھائی کی لاٹھی بھی اٹھالے تو اسے واپس لوٹا دے (سنن ابی داؤد: ۵۰۰۳ ترمذی 496 رقم : ۲۱۶۰)
کسی کی مرضی کے بغیر زبردستی اور ظالمانہ طور پر اس کی مملوکہ چیز لے لی جائے شریعت کی زبان میں اس کو غصب کہا جاتا ہے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل ہدایات ارشاد فرمائی ہیں:سعید بن زید کی مرفوع روایت ہے ” جو شخص ظلم سے کسی کی زمین کا کچھ حصہ چھین لے گا تو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ (فتح الباری: ۵۷۸/۶- رقم: 2452 - صحیح مسلم :1610)
ظلما زمین کے کچھ حصہ چھین لینے کی وضاحت بخاری کی دوسری حدیث میں ایک بالشت کے بقدر ہے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا، حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: ابوسلمہ : زمین کے معاملہ میں اجتناب کرو کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کر لی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائیگا. (الفتح:6/568-2453) وصحيح مسلم : 1610) اس کو امام مسلم نے بھی اپنے صحیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ اللہ تعالی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائے گا ۔ (صحیح مسلم : (1611) طوق ہونے کی صورت یہ ہے کہ ظالم کو زمین میں دھنسایا جائے گا تو زمین مثل طوق ہو جائے گی۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص تھوڑی سی زمین بھی ناحق لے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا. (فتح الباري: 568/۲ رقم 2454- مسنداحمد: رقم(6197)
زمین کو غصب کرنا نہایت ہی سخت گناہ ہے شاید بعض غصب کرنے والے اور زمین ہتھیانے والے کو خسف (زمین دھنسانے کے ساتھ عذاب ہو اور بعض کو طوق کے ساتھ اور بعض کو اس زمین کے اٹھانے کے ساتھ عذاب ہوگا جیسا کہ پعلی بن مرہ کی مرفوع روایت ہے جو شخص ناحق زمین لے لے اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ محشر میں اس کی مٹی سر پر ڈالے - (مسنداحمد ۲۵۷/۷ رقم: ۱۷۷۱۲ اسنادہ حسن)
ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی کی زمین ایک بالشت برابر بھی ظلما چھین لے تو اللہ تعالی اسے مکلف کرے گا کہ وہ زمین کو کھودے یہاں تک کے ساتوں زمینوں تک پہنچے پھر طوق بنا کر وہ زمین اس کے گلے میں قیامت کے دن ڈالی جائے گی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے"۔ (مسنداحمد7/262برقم17714 وموارد الظمآن للھیثمی: 4/59(1167)اسنادہ جید)
ابومالک اشجعی اور ابن مسعود کی مرفوع روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ!سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کرنے کے لئے لے۔ زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اس ذات کو ہے جس نے زمین پیدا کیا ہے"۔ (مسند احمد: ۱۷۳۸۷۔ ۱۶۹۵۲۔ ۲۳۲۸۳۔ واسنادہ حسن، ورقم (۳۷۲۷) و (۳۷۵۲) واسنادہ حسن)
قارئین کرام! زمین غصب کرنے والا ملعون ہے- (صحیح مسلم: 1978 بلفظ آخر والبخاری فی الادب: 10رقم: 17 فی معناہ) اس کی فرض و نفل بھی قبول نہیں۔ (رواہ البوصیری فی اتحاف الخیرۃ المہرۃ: ۵۹/۳ ۳ رقم: ۲۹۰۳ بسند ضعیف) جب تک کہ اس کے پاس موجود غصب کردہ چیز کو واپس نہ کردے۔ سمرہ بن جندبؓ کی ایک مرفوع روایت ہے کہ "ہاتھ کے ذمہ ہے وہ چیز جو اس نے لی جب تک کہ وہ اسے ادا نہ کردے۔"(سنن ابی داود: ۳۵۶۱، ترمذی: ۱۲۶۶، حاکم: ۴۷/۲، وسندہ حسن)
امام صنعانیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی جو کچھ بھی پکڑے جو کسی اور کی ملکیت ہو، اسے لوٹانا واجب ہے اور وہ اس وقت تک بری نہیں ہوگا جب تک وہ چیز اپنے مالک یا اس کے قائم مقام تک نہ پہنچ جائے اور اس میں غصب، امانت اور ادھار سب شامل ہیں۔(فقہ الاسلام شرح بلوغ المرام، ص: ۵۱۹، رقم: ۸۸۱)
غاصب پرضروری و لازم ہیکہ وہ اللہ تعالی کے یہاں توبہ کرے اور غصب کی ہوئی چیز کو اسکے مالک کو واپس لوٹائے اور اس سے معافی ودرگزر طلب کرے- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو اسے چاہیئے کہ اس سے (اس دنیا میں) معاف کرالے، اسلئے کہ آخرت میں روپئے پیسے نہیں ہونگے اس سے پہلے (معاف کرالے) کہ اس کے بھائی کیلئے اسکی نیکیوں سے حق دلایا جائیگا اور اگر اسکے پاس نیکیاں نہ ہوں گی، تو اس مظلوم بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی- (صحیح بخاری: 14/605رقم:6534)
"صحیح بخاری و مسلم میں ایک بڑا عبرت آموز واقعہ زمین کے غصب ہی کے بارے میں روایت کیا گیا ہے۔ جس کا تعلق اس حدیث سے ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت (ارویٰ بنت قیس) نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ انھوں نے میری فلاں زمین دبالی ہے۔حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کہ کیا میں اس عورت کی زمین دباؤں گا اور غصب کروں گا؟ میں تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت وعید سنی ہے ’مَنْ اَخَذَ شِبْراً مِنَ الْاَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَه اِلٰی سَبْعِ اَرَضِیْنَ‘ (جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا)۔ مروان نے کہا اب میں آپ سے کوئی دلیل اور ثبوت نہیں مانگتا، اس کے بعد حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے دکھے دل سے بددعا کی کہ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ اس عورت نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے تو اس کو اس کی آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دے اور اس کی زمین ہی کو اس کی قبر بنا دے۔واقعہ کے بعد حضرت عروہ کہتے ہیں کہ پھر ایسا ہی ہوا، میں نے خود اس عورت کو دیکھا وہ آخری عمر میں نابینا ہوگئی اور خود کہا کرتی تھی کہ سعید بن زید کی بددعا سے میرا یہ حال ہوا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا کہ وہ ایک دن اپنی زمین میں ہی چلی جارہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر پڑی اور بس وہ گڑھا ہی اس کی قبر بن گیا (فتح الباری: 8/3198 مسلم: 138-139/ 1610)
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بہت عبرت ہے جو دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "مظلوم شخص اپنے اوپر کیے گئے ظلم کے لیے بد دعا کر سکتا ہے"۔ (تفسیر ابن کثیر: ۵/۶، تحت الآیۃ: لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم) ہمیں مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ہے: مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے اگرچہ وہ برا ہی کیوں نہ ہو، اس کی برائی اس کے نفس پر ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی ایک دوسری مرفوع روایت ہے: "ان تین افراد کی دعا رد نہیں کی جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا، تو بادلوں پر اٹھالی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم میں ضرور بہ ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو"۔ (مسند الطیالسی: ۳۸۵/۲، طبرانی: ۱۱۸۲، مسند احمد: برقم ۸۷۸۱ و ۸۰۳۰)
اگر کوئی شخص غصب کردہ چیز کو تلف کر دے تو اس پر لازم ہے کہ اس طرح کی چیز بدلے میں دے خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو، البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا اس کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے یہ موقف اپنایا ہے کہ جو چیز ہلاک کی ہے وہی دینی ہوگی، لیکن اگر اس کی مثل چیز ملنا ہی مشکل ہو تو پھر قیمت دی جا سکتی ہے۔ (شرح بلوغ المرام حافظ عمران ایوب لاھوری: ص:522 نقلا عن توضیح الاحکام:4/590)
جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ہاں تشریف فرما تھے کہ امھات المؤمنین میں سے کسی (حضرت صفیہ ) نے خادم کے ہاتھ ایک برتن میں کھانا بھیجا تو اس ہیوی (حضرت عائشہ) نے اسے ہاتھ سے گرا کر توڑ دیا۔ آپ نے اسے جوڑ کر اس میں کھانا ڈالا اور فرمایا کھاؤ پھر اپنا صحیح برتن ( بدلے میں ) واپس بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا خود رکھ لیا ۔(ترمذی کتاب الدعوات ص: 819 رقم ۳۵۹۸. ابن ماجه كتاب الصيام ص:311 رقم (1752) اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے ہاتھ مار کر توڑنے والی کا نام عائشہ ذکر کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا " کھانے کے بدلے کھانا ہے اور برتن کے بدلے برتن (تفرده البخاری باخراجه دون مسلم في كتاب المظالم والغضب باب اذا كسر قصعة أو شيئا لغيره: 6/602 رقم 2481 أبوداود رقم: 3567)
جو شخص بغیر اجازت کسی کی زمین میں کوئی فصل کاشت کرلے اسے فصل سے حاصل ہونے والا منافع نہیں دیا جائے گا بلکہ صرف کاشت کی لاگت دے دی جائے گی اور منافع مالک کا ہوگا ۔ امام مالک واحمد اور اسحاق کا یہی موقف ہے، جو رافع بن خدیج کی مرفوع روایت پر مبنی ہے۔ " جس نے کسی قسم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کی اسے پیداوار سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اخراجات مل جائیں گے۔ (ترمذی: رقم ۱۳۵۹)
معلوم ہوا کہ جتنی لاگت آئی ہے وہ اسے دے دی جائے گی جب کہ اسے منافع نہیں دیا جائے گا اور اگر کوئی شخص کسی کی زمین میں بلا اجازت کوئی چیز مثلا درخت وغیرہ لگالے تو اسے اپنے درخت اکھاڑ لینے کا حکم دیا جائے گا یا پہر اپنی لاگت وصول کر لے اور درخت زمین کے مالک کے ہو جا ئیں گے- جیسا کہ عروہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ”دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کھجور کے درخت لگائے تھے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ ’زمین مالک کی ہے اور درخت لگانے والا اپنا درخت اکھاڑ لے‘۔ (ابوداؤد: 2403) اور فرمایا کہ ”لَیْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ“ (ابوداؤد: ۳۰۷۳)ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔
ظالم رگ سے مراد وہ درخت ہیں جو کوئی کسی دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کے لگا دے یا مکان بنا لے اسے کہا جائے گا کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھا لے الا یہ کہ زمین کا مالک خود راضی ہو جائے ، غصب یہ نہیں ہے کہ کسی چیز پر طاقت کے بل بوتے قبضہ کر لیا جائے بلکہ یہ بھی غصب میں ہی شامل ہے کہ کسی باطل طریقے اور جھوٹی اور فاجرہ قسم کے ذریعے سے کسی چیز پر قبضہ کر لیا جائے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ”وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ“ (البقرہ: ۱۸۸) (ابوداؤد: ۳۰۷۳)
ایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھایا کرو اور نہ ہی حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا کر لیا کرو حالاں کہ تم جانتے ہو۔ اللہ تعالی سے دعا ہیکہ اللہ تعالی ہم سب کی اصلاح فرما،اورہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرما آمین،
کتبہ:ابو عائشہ محمد مسرور جمال عرفانی ندوی
13/6/2026

