Sunday, June 14, 2026

غصب، ناحق قبضہ: مسرور جمال فاخری ندوی ازہری

File Photo : M Masroor Jamal Fakhri Azhari
    غصب مصدر ہے، باب غصب يغصب (ضرب) سے،  اس کا معنی ہے: زبردستی کوئی چیز چھین لینا، باب اغتصب (افتعال ) بھی اسی معنی میں ہے۔ (المنجد: (710) اصطلاحاً: غصب سے مراد ہے کسی دوسرے کا حق چھین لینا اور اس پر زبردستی قبضہ کر لینا۔ (فقه السنه سید سابق سابق: ۲۷۴/۳- فقه الاسلام شرح بلوغ المرام حافظ عمران ايوب ۵۲۱ - اعلاء السنن للشيخ ظفر احمد العثماني : ۳۵۲/۳۳۳ والمهذب في الفقة الشافعي للشيخ أبي اسحاق ابراهيم بن على الشيرازي الفيرو آبادی : ٣٩٦/٢)


     غصب حرام ہے ارشاد باری تعالی ہے : "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ “ (البقره: ١٨٨) آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔

    حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام منی میں یوم النحر کے خطبہ میں فرمایا: " بلاشبہ تمہارے خون تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت، اس مہینے اور اس شہر میں ہے- (فتح الباری: ۳۰۳/۱ رقم: ۶۷ - مسلم : 63 - :رقم: ۱۶۷۹)

    قارئین کرام! اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کسی مسلمان کی کسی بھی چیز پر غاصبانہ قبضہ کرنا حرام ہے اس پر سب متفق ہیں-حضرت ابوحمید الساعدی رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"کسی آدمی کے لیے اپنے بھائی کی دلی رضامندی کے بغیر اس کی لاٹھی پکڑنا بھی حلال نہیں“۔ اور ایک روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں،۔ (مسند احمد: ۸۷۷/۷- سنن الكبرى: ۱۶۵/۶)معلوم ہوا کہ لوگوں کے اموال بغیر اجازت لینا حرام ہے حتی کہ لاٹھی جیسی معمولی چیز بھی اجازت لینے سے احتراز کرنا چاہیئے جیسا کہ سائب بن یزید عن ابیہ کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی سنجیدگی کی حالت میں ہو یا مذاق کی حالت میں بغیر اجازت اپنے بھائی کی لاٹھی بھی اٹھالے تو اسے واپس لوٹا دے (سنن ابی داؤد: ۵۰۰۳ ترمذی 496 رقم : ۲۱۶۰) 

    کسی کی مرضی کے بغیر زبردستی اور ظالمانہ طور پر اس کی مملوکہ چیز لے لی جائے شریعت کی زبان میں اس کو غصب کہا جاتا ہے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل ہدایات ارشاد فرمائی ہیں:سعید بن زید کی مرفوع روایت ہے ” جو شخص ظلم سے کسی کی زمین کا کچھ حصہ چھین لے گا تو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ (فتح الباری: ۵۷۸/۶- رقم: 2452 - صحیح مسلم :1610)

     ظلما زمین کے کچھ حصہ چھین لینے کی وضاحت بخاری کی دوسری حدیث میں ایک بالشت کے بقدر ہے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا، حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: ابوسلمہ : زمین کے معاملہ میں اجتناب کرو کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کر لی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائیگا. (الفتح:6/568-2453) وصحيح مسلم : 1610) اس کو امام مسلم نے بھی اپنے صحیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ اللہ تعالی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائے گا ۔ (صحیح مسلم : (1611) طوق ہونے کی صورت یہ ہے کہ ظالم کو زمین میں دھنسایا جائے گا تو زمین مثل طوق ہو جائے گی۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص تھوڑی سی زمین بھی ناحق لے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا. (فتح الباري: 568/۲ رقم 2454- مسنداحمد: رقم(6197) 

    زمین کو غصب کرنا نہایت ہی سخت گناہ ہے شاید بعض غصب کرنے والے اور زمین ہتھیانے والے کو خسف (زمین دھنسانے کے ساتھ عذاب ہو اور بعض کو طوق کے ساتھ اور بعض کو اس زمین کے اٹھانے کے ساتھ عذاب ہوگا جیسا کہ پعلی بن مرہ کی مرفوع روایت ہے جو شخص ناحق زمین لے لے اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ محشر میں اس کی مٹی سر پر ڈالے - (مسنداحمد ۲۵۷/۷ رقم: ۱۷۷۱۲ اسنادہ حسن)

    ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی کی زمین ایک بالشت برابر بھی ظلما چھین لے تو اللہ تعالی اسے مکلف کرے گا کہ وہ زمین کو کھودے یہاں تک کے ساتوں زمینوں تک پہنچے پھر طوق بنا کر وہ زمین اس کے گلے میں قیامت کے دن ڈالی جائے گی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے"۔ (مسنداحمد7/262برقم17714 وموارد الظمآن للھیثمی: 4/59(1167)اسنادہ جید)

    ابومالک اشجعی اور ابن مسعود کی مرفوع روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ!سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کرنے کے لئے لے۔ زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اس ذات کو ہے جس نے زمین پیدا کیا ہے"۔ (مسند احمد: ۱۷۳۸۷۔ ۱۶۹۵۲۔ ۲۳۲۸۳۔ واسنادہ حسن، ورقم (۳۷۲۷) و (۳۷۵۲) واسنادہ حسن) 

    قارئین کرام! زمین غصب کرنے والا ملعون ہے- (صحیح مسلم: 1978 بلفظ آخر والبخاری فی الادب: 10رقم: 17 فی معناہ) اس کی فرض و نفل بھی قبول نہیں۔ (رواہ البوصیری فی اتحاف الخیرۃ المہرۃ: ۵۹/۳ ۳ رقم: ۲۹۰۳ بسند ضعیف) جب تک کہ اس کے پاس موجود غصب کردہ چیز کو واپس نہ کردے۔ سمرہ بن جندبؓ کی ایک مرفوع روایت ہے کہ "ہاتھ کے ذمہ ہے وہ چیز جو اس نے لی جب تک کہ وہ اسے ادا نہ کردے۔"(سنن ابی داود: ۳۵۶۱، ترمذی: ۱۲۶۶، حاکم: ۴۷/۲، وسندہ حسن)


    امام صنعانیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی جو کچھ بھی پکڑے جو کسی اور کی ملکیت ہو، اسے لوٹانا واجب ہے اور وہ اس وقت تک بری نہیں ہوگا جب تک وہ چیز اپنے مالک یا اس کے قائم مقام تک نہ پہنچ جائے اور اس میں غصب، امانت اور ادھار سب شامل ہیں۔(فقہ الاسلام شرح بلوغ المرام، ص: ۵۱۹، رقم: ۸۸۱)


    غاصب پرضروری و لازم ہیکہ وہ اللہ تعالی کے یہاں توبہ کرے اور غصب کی ہوئی چیز کو اسکے مالک کو واپس لوٹائے اور اس سے معافی ودرگزر طلب کرے- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو اسے چاہیئے کہ اس سے (اس دنیا میں) معاف کرالے، اسلئے کہ آخرت میں روپئے پیسے نہیں ہونگے اس سے پہلے (معاف کرالے) کہ اس کے بھائی کیلئے اسکی نیکیوں سے حق دلایا جائیگا اور اگر اسکے پاس نیکیاں نہ ہوں گی، تو اس مظلوم بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی- (صحیح بخاری: 14/605رقم:6534)


    "صحیح بخاری و مسلم میں ایک بڑا عبرت آموز واقعہ زمین کے غصب ہی کے بارے میں روایت کیا گیا ہے۔ جس کا تعلق اس حدیث سے ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت (ارویٰ بنت قیس) نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف مدینہ کے اس وقت کے حاکم مروان کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ انھوں نے میری فلاں زمین دبالی ہے۔حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کہ کیا میں اس عورت کی زمین دباؤں گا اور غصب کروں گا؟ میں تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت وعید سنی ہے ’مَنْ اَخَذَ شِبْراً مِنَ الْاَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَه اِلٰی سَبْعِ اَرَضِیْنَ‘ (جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا)۔ مروان نے کہا اب میں آپ سے کوئی دلیل اور ثبوت نہیں مانگتا، اس کے بعد حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے دکھے دل سے بددعا کی کہ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ اس عورت نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے تو اس کو اس کی آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دے اور اس کی زمین ہی کو اس کی قبر بنا دے۔واقعہ کے بعد حضرت عروہ کہتے ہیں کہ پھر ایسا ہی ہوا، میں نے خود اس عورت کو دیکھا وہ آخری عمر میں نابینا ہوگئی اور خود کہا کرتی تھی کہ سعید بن زید کی بددعا سے میرا یہ حال ہوا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا کہ وہ ایک دن اپنی زمین میں ہی چلی جارہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر پڑی اور بس وہ گڑھا ہی اس کی قبر بن گیا (فتح الباری: 8/3198 مسلم: 138-139/ 1610)


    اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بہت عبرت ہے جو دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔  ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "مظلوم شخص اپنے اوپر کیے گئے ظلم کے لیے بد دعا کر سکتا ہے"۔  (تفسیر ابن کثیر: ۵/۶، تحت الآیۃ: لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم) ہمیں مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ہے: مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے اگرچہ وہ برا ہی کیوں نہ ہو، اس کی برائی اس کے نفس پر ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی ایک دوسری مرفوع روایت ہے: "ان تین افراد کی دعا رد نہیں کی جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا، تو بادلوں پر اٹھالی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم میں ضرور بہ ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو"۔ (مسند الطیالسی: ۳۸۵/۲، طبرانی: ۱۱۸۲، مسند احمد: برقم ۸۷۸۱ و ۸۰۳۰)


    اگر کوئی شخص غصب کردہ چیز کو تلف کر دے تو اس پر لازم ہے کہ اس طرح کی چیز بدلے میں دے خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو، البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا اس کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے یہ موقف اپنایا ہے کہ جو چیز ہلاک کی ہے وہی دینی ہوگی، لیکن اگر اس کی مثل چیز ملنا ہی مشکل ہو تو پھر قیمت دی جا سکتی ہے۔ (شرح بلوغ المرام حافظ عمران ایوب لاھوری: ص:522 نقلا عن توضیح الاحکام:4/590)


    جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ہاں تشریف فرما تھے کہ امھات المؤمنین میں سے کسی (حضرت صفیہ ) نے خادم کے ہاتھ ایک برتن میں کھانا بھیجا تو اس ہیوی (حضرت عائشہ) نے اسے ہاتھ سے گرا کر توڑ دیا۔ آپ نے اسے جوڑ کر اس میں کھانا ڈالا اور فرمایا کھاؤ پھر اپنا صحیح برتن ( بدلے میں ) واپس بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا خود رکھ لیا ۔(ترمذی کتاب الدعوات ص: 819 رقم ۳۵۹۸. ابن ماجه كتاب الصيام ص:311 رقم (1752) اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے ہاتھ مار کر توڑنے والی کا نام عائشہ ذکر کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا " کھانے کے بدلے کھانا ہے اور برتن کے بدلے برتن (تفرده البخاری باخراجه دون مسلم في كتاب المظالم والغضب باب اذا كسر قصعة أو شيئا لغيره: 6/602 رقم 2481 أبوداود رقم: 3567)

    جو شخص بغیر اجازت کسی کی زمین میں کوئی فصل کاشت کرلے اسے فصل سے حاصل ہونے والا منافع نہیں دیا جائے گا بلکہ صرف کاشت کی لاگت دے دی جائے گی اور منافع مالک کا ہوگا ۔ امام مالک واحمد اور اسحاق کا یہی موقف ہے، جو رافع بن خدیج کی مرفوع روایت پر مبنی ہے۔ " جس نے کسی قسم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کی اسے پیداوار سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اخراجات مل جائیں گے۔ (ترمذی: رقم ۱۳۵۹)


    معلوم ہوا کہ جتنی لاگت آئی ہے وہ اسے دے دی جائے گی جب کہ اسے منافع نہیں دیا جائے گا اور اگر کوئی شخص کسی کی زمین میں بلا اجازت کوئی چیز مثلا درخت وغیرہ لگالے تو اسے اپنے درخت اکھاڑ لینے کا حکم دیا جائے گا یا پہر اپنی لاگت وصول کر لے اور درخت زمین کے مالک کے ہو جا ئیں گے- جیسا کہ عروہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ”دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کھجور کے درخت لگائے تھے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ ’زمین مالک کی ہے اور درخت لگانے والا اپنا درخت اکھاڑ لے‘۔ (ابوداؤد: 2403)    اور فرمایا کہ ”لَیْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ“ (ابوداؤد: ۳۰۷۳)ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ 

    ظالم رگ سے مراد وہ درخت ہیں جو کوئی کسی دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کے لگا دے یا مکان بنا لے اسے کہا جائے گا کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھا لے الا یہ کہ زمین کا مالک خود راضی ہو جائے ، غصب یہ نہیں ہے کہ کسی چیز پر طاقت کے بل بوتے قبضہ کر لیا جائے بلکہ یہ بھی غصب میں ہی شامل ہے کہ کسی باطل طریقے اور جھوٹی اور فاجرہ قسم کے ذریعے سے کسی چیز پر قبضہ کر لیا جائے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ”وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ“ (البقرہ: ۱۸۸) (ابوداؤد: ۳۰۷۳)

    ایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھایا کرو اور نہ ہی حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا کر لیا کرو حالاں کہ تم جانتے ہو۔ اللہ تعالی سے دعا ہیکہ اللہ تعالی ہم سب کی اصلاح فرما،اورہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرما آمین،

کتبہ:ابو عائشہ محمد مسرور جمال عرفانی ندوی

13/6/2026

Share:

Tuesday, July 1, 2025

آم کا ذائقہ اور معاشرے کا مزاج


✍️ والد محترم (انعام الحق) کی باتوں سے ماخوذ

آج والد محترم، جو کہ ایک کہنہ مشق افسر اور علم و حکمت کے خزانے ہیں، آم کی بات کرتے کرتے دل کی بات کہہ گئے۔

فرمایا:

"آج کل لوگ آم بھی صرف وہی پسند کرتے ہیں جو بہت زیادہ میٹھا ہو، جیسے 'مالدہ'۔ دوسری قسموں کے آم جو کبھی ذائقے، خوشبو یا ماضی کی یادوں کے لیے جانے جاتے تھے، وہ سب پیچھے رہ گئے۔ اب لوگ انہیں لینے تک تیار نہیں۔ اور جب خریدار نہیں، تو کسان بھی ان کی کاشت چھوڑ دیتا ہے۔"


حالانکہ کاشتکاری میں جدید کھاد، ہائبرڈ بیج، اور مارکیٹ کی دوڑ سے پہلے، ہمارے دیہاتوں میں مختلف اقسام کے آم بکثرت پائے جاتے تھے۔ ہر آم کی اپنی شناخت، خوشبو، ذائقہ، اور تہذیبی پہچان ہوتی تھی۔

خاص طور پر متھلانچل کے علاقے میں آموں کے نام ان کی صفات، رنگت، شکل یا ذائقے کی بنیاد پر رکھے جاتے تھے۔ والد صاحب نے ان کے چند نام اور صفات کچھ یوں بتائیں:


🔸 سندوریہ – اس آم کے اوپری حصے پر پکنے پر سرخی آ جاتی تھی، جیسے سندور۔

🔸 گھیاما – اس آم کی بناوٹ اور ذائقہ بالکل گھی جیسا، نرم، رس دار۔

🔸 دو-امّاں: اس آم کے درخت کی خصوصیت یہ ہوتی تھی کہ اس میں جڑواں آم ہوتے تھے۔

🔸 دودھ دمّاں: اس آم میں دودھ کی کثرت کی وجہ سے اس کا نام دودھ اور آم سے ملا کر دودھ امّاں رکھا گیا۔

🔸 سفیدا – پکنے کے بعد اس پر ایک خوبصورت سفیدی چھا جاتی تھی۔

🔸 بیلوا – یہ آم بیل کے پھل جیسی شکل و جسامت کا ہوتا تھا۔

🔸 پیلو اہوا: زیادہ پک جانے پر اس آم میں پیلو کی کثرت ہوجاتی تھی اس لیے اس آم کو پیلو اہوا کہا جاتا تھا۔

🔸 چھپرہوا – بڑی گٹھلی والا مگر خوشبو دار، خاص مہمانوں کے لیے رکھا جاتا تھا۔

🔸 کٹھوروا – اس کا کچھ حصہ نرم، کچھ سخت ہوتا تھا؛ ذائقے میں ایک الگ قسم کی پیچیدگی لیے ہوئے۔

یہ تمام نام صرف آم نہیں تھے، بلکہ ایک خطے کی زبان، یادیں، اور ذائقوں کی جیتی جاگتی لغت تھے۔


لیکن افسوس، اب صرف ایک ہی معیار رہ گیا ہے: "زیادہ میٹھا ہو، خوشنما ہو، مشہور ہو۔"

اور یہی سوچ آہستہ آہستہ ہمارے معاشرتی رویوں میں بھی سرایت کر گئی ہے۔

ہم نے ہر چیز کو صرف فائدہ، چمک، اور فوری لذت کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔

اب معاشرے میں بھی وہی لوگ اہم سمجھے جاتے ہیں جو "میٹھے مالدہ" کی طرح سب کو بھا جائیں۔

جو لوگ منفرد ہوں، اپنے انداز میں کھٹے میٹھے ہوں، یا جن کے ذائقے کو سمجھنے کے لیے صبر درکار ہو، وہ نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔


یہ صرف آم کی اقسام کا خاتمہ نہیں، یہ انسانوں کی انفرادیت، روایات، تنوع، اور اصل مزاج کا زوال ہے۔ ہماری قدریں، تعلقات، اور سوچ — سب "مارکیٹ ویلیو" پر پرکھے جا رہے ہیں۔


والد صاحب کی آم والی بات نے ایک پوری تہذیب کی بیماری پر روشنی ڈال دی۔ یہ صرف ذائقے کی تبدیلی نہیں، یہ ترجیحات کی تبدیلی ہے اور جہاں ترجیح صرف "چاہے جانے" اور "چکھے جانے" کی ہو، وہاں اصل ذائقے مٹ جاتے ہیں، اور صرف "باقی سب جیسا" باقی رہ جاتا ہے۔

Share:

Monday, June 9, 2025

رزق کا فلسفہ: کامیابی کمانے میں نہیں، خرچ کرنے میں ہے


تحریر: انعام الحق انصاری (ریٹائرڈ: ڈی ڈی سی)

رزق صرف مال و دولت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ الٰہی ہے، جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ کمانا کامیابی ہے، مگر میرے والد صاحب کی ایک سادہ مگر عمیق بات نے اس سوچ کو بدل دیا۔ اُنہوں نے فرمایا:

 "کامیابی کا اصل ہنر کمانے میں نہیں بلکہ خرچ کرنے میں ہے۔" یہ جملہ بظاہر مختصر ہے، مگر اپنی معنویت میں بےحد وسیع۔ والد صاحب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان جو کماتا ہے وہ اس کا نصیب ہے، لیکن وہ اسے کیسے خرچ کرتا ہے — یہ اس کا کردار اور فہم ظاہر کرتا ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ جو کچھ اُسے ملا ہے، وہ محض اس کی محنت کا صلہ نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے۔ اور امانت کا حق یہ ہے کہ اسے درست جگہ اور صحیح نیت سے خرچ کیا جائے۔

خرچ کی ترتیب: کامیابی کا پوشیدہ راز

ایک موقع پر والد صاحب نے بہت سادہ مگر فکر انگیز مثال دی:

"اگر کسی کی آمدنی 50 ہزار روپے ہے، اور اُس کا خرچ 55 ہزار روپے ہے، تو وہ ساری زندگی کمانے کے باوجود پریشان رہے گا۔ اور اگر کسی کی آمدنی 30 ہزار روپے ہے، اور خرچ 25 ہزار ہے، تو وہ نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی گزارے گا۔"


پھر فرمایا: "اسی میں یہ راز پناہ ہے کہ کامیابی اصل میں کمانے میں نہیں بلکہ خرچ کرنے میں ہے۔"

یہ بات محض حسابی توازن نہیں، بلکہ ایک روحانی بصیرت ہے۔ خرچ میں توازن، قناعت، اور حکمت وہ عوامل ہیں جو انسان کو فقر و تنگی سے بچاتے ہیں، چاہے آمدنی کم ہی کیوں نہ ہو۔


رزق میں برکت: مقدار سے زیادہ اہم شئے

والد صاحب اکثر رزق میں برکت کے پہلو پر زور دیتے تھے۔ اُنہوں نے کہا:

 "اللہ تعالیٰ بعض اوقات رزق کی مقدار تو بڑھا دیتا ہے، مگر برکت نہیں دیتا، نتیجتاً وہ رزق فائدہ نہیں دیتا۔ اور بعض اوقات مقدار کم ہوتی ہے مگر اللہ برکت ڈال دیتا ہے، تو وہی رزق سکون، عزت، اطمینان اور چین کا ذریعہ بن جاتا ہے۔"


قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 "وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ"(الاعراف: 96)

ترجمہ: "اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان و زمین سے برکتیں کھول دیتے۔"


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 "لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ... مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ" (ترمذی)

ترجمہ: "قیامت کے دن بندے کے قدم اُس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اُس سے یہ نہ پوچھا جائے گا: مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔"


یہ دلائل اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ رزق کا اصل امتحان صرف اس کے ذرائع میں نہیں بلکہ اس کے مصارف میں ہے۔


کامیابی کا معیار: برکت، سکون اور قناعت

والد صاحب کے مطابق، اگر رزق اللہ کی رضا کے مطابق خرچ ہو — والدین کی خدمت، غرباء کی امداد، دین کی خدمت، اور عزتِ نفس کے ساتھ جینے کے لیے — تو وہی رزق بابرکت ہے، چاہے مقدار میں کم ہو۔ وہ کہتے:


"برکت یہ نہیں کہ کسی کے پاس لاکھوں کی امدنی ہو، بلکہ۔ رکت یہ ہے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہو، وہ تمہارے لیے کافی ہو جائے، تمہیں محتاجی کا احساس نہ ہو، اور تم اسے دوسروں کے لیے باعثِ راحت بنا سکو۔"


خلاصہ یہ کہ زندگی گزارنے کا شعور سیکھنا لازم ہے، بطور خاص رزق کے سلسلے میں دو چیزیں نہایت ہی اہم ہیں: پہلا یہ کہ اپنی استطاعت کہ بقدر خوب خوب محنت کی جائے،  اور دوسرا یہ کہ اس محنت کے بدلے میں اللہ جو رزق عطا کر دے اس کو شکر کے جذبے کے ساتھ درست طریقے پر خرچ کیا جائے۔


رزق محض معاشی معاملہ نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف مقدار میں دیا ہے، لیکن اصل آزمائش اس میں نہیں کہ کتنا دیا، بلکہ اس میں ہے کہ کس نیت سے خرچ کیا، کن مقاصد کے لیے خرچ کیا، اور کس حد تک اللہ کی رضا ملحوظ رکھی۔


والد صاحب کی سادہ مگر پُر اثر باتیں آج بھی میرے دل میں گونجتی ہیں اور زندگی کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہیں۔ وہ دنیاوی کامیابی کو صرف "کمانے" سے نہیں جوڑتے بلکہ "خرچ کرنے" کی نیت، طریقہ اور دائرہ کو اصل پیمانہ سمجھتے ہیں — اور یہی وہ راز ہے جو زندگی کو سادہ، پُرسکون اور بابرکت بناتا ہے۔

Share:

Wednesday, May 13, 2020

غریب ‏و ‏محتاج ‏مسافر ‏کی ‏مدد

 غریب ومحتاج مسافر کی مدد قرآن مجید کا ایک اہم حکم اور مسلمانوں کی تاریخ کا ایک زریں ورق

الیاس نعمانی
     قرآن مجید نے متعدد مقامات پر ان مصارف (مدوں)  کا تذکرہ فرمایا ہے جن میں مال خرچ کرنا بڑی نیکی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے، ایسے اکثر مقامات پر اس نے مسافروں کا تذکرہ کیا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غریب ومحتاج مسافروں کی مدد اللہ تعالیٰ کا بہت اہم حکم ہے، جس کی تعمیل مسلمانوں پر لازمی ہے،  مثلا سورہ بقرہ کی آیت : ۲۱۵ میں ارشاد ہوا ہے:(ترجمہ) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کو راضی کرنے کے لیے) کیا خرچ کریں؟ آپ کہدیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہیے۔
      سورۂ بنی اسرائیل کی آیات ۲۳ تا ۳۹ میں اللہ سبحانہ وتعالی نے انسانی زندگی کے بارے میں اسلام کے وہ بایہدی اور اہم اصول ذکر کیے ہیں جن کے مطابق زندگی کو ڈھالنا  اللہ تعالی کو مسلمانوں سے مطلوب  ہے، ان اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ راہنمائی کرتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنا مال کس طرح خرچ کرنا چاہیے، اس موقع پربھی مسافروں کی خبرگیری کا حکم دیا گیا ہے، ارشاد ہوا ہے:(ترجمہ) اور رشتہ دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو ان کا حق دو، اور اپنے مال کو بے ہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ۔
     رسول اکرم ﷺ کی احادیث میں بھی ہمیں مسافروں کی مدد اور ان کی خبر گیری کا حکم  بکثرت ملتا ہے،اس اسلامی تعلیم کی ہی برکت تھی کہ مسلمانوں کے روشن دور میں مسافروں کی مدد اور ان کو ہر طرح کی سہولت پنہچانے کا عجیب وغریب نظام قائم تھا، سیدنا عمرؓ کے عہد میں مسافروں کے لیے سرائیں تعمیر کرنے کا آغاز ہوا، جو اگلی مسلم حکومتوں میں مسلسل ترقی کرتا گیا، بنو امیہ اور بنو عباس کے عہد میں اور اس کے بعد بھی پورے عالم اسلام کی ہر بڑی شاہراہ پر سرائیں ہوتی تھیں جہاں مسافروں کے لیے قیام کی سہولت، اور ان کی ضروریات کا مکمل انتظام بغیر کسی معاوضہ کے ہوتا تھا، پورے عالم اسلام میں بلا مبالغہ لاکھوں سرائیں اور مسافر خانے  تھے،کسی مسافر کو یہ نہیں سوچنا پڑتا تھا کہ وہ دوران سفر کہاں قیام کرے گااور وہاں اس کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی، ان سراؤں اور مسافر خانوں کی تعمیر اور ان کے مستقل اخراجات کا انتظام صرف حکومت ہی نہیں کرتی تھی، بلکہ اس کے لیے عوام کی جانب سے کیے گئے لاکھوں اوقاف تھے، خود ہمارے ملک کے ہر شہر اور قصبہ میں جو ہم کو مسافر خانے نظر آتے ہیں یہ اسی سلسلہ کی کڑی تھے۔
     غرض مسافروں کی مدد اور خبر گیری اسلام کا مسلمانوں سے ایک اہم مطالبہ اور مسلم تاریخ وتہذیب کا ایک زریں ورق ہے، جس کی مثال شاید کہیں اور ایسی آب وتاب کے ساتھ نہیں مل سکتی۔
آج ہمارے ملک کی سڑکوں  پر عجیب منظر ہے، لاکھوں غریب وبے حال مزدور سیکڑوں کیلومیٹر کا سفر نہایت پریشانی کے عالم میں کررہے ہیں، ان میں سے اکثریت کھانے پینے کے لیے دوسروں کی مدد کی محتاج ہے، یہ ہماری اور آپ کی بستیوں کے پاس سے گزررہے ہیں، ان کو کھانا کھلانا اور دوسرے طریقوں سے ان کی مدد کرنا ہمارا وہ فریضہ ہے جس کا حکم قرآن مجید نے ہمیں بار بار دیا ہے، رسول اکرم ﷺ کی احادیث میں ہمیں  جس کی ترغیب دی گئی ہے، اور جو مسلمانوں کی تاریخ کا ایک نہایت زریں ورق ہے، اگر ہم سچے مسلمان ہیں (اور کیوں نہیں ہیں؟) تو پھر ان کا ہمارے شہروں، قصبوں اور گانووں کے پاس سے یوں ہی بھوکا گزرجانا ہم کو کیسے گوارا ہوسکتا ہے، ہماری مسلمانیت یہ کیسے ہونے دے سکتی ہے، آئیےطے کریں کہ اپنے گرد وپیش سے ان کو بھوکا نہیں جانے دیں گے، اللہ کے حکم پر عمل کریں گے اور مسلم تاریخ کے اس حسین پہلو کو جاری رکھیں گے، یقین جانیں جو حضرات بھی اس کار خیر میں حصہ لیں گے انھیں مسافروں کی مدد اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا بہت بڑا اجر ملے گا، اور پھر اس ماہ مبارک میں تو کیا کہنا!!!اس مہینہ کے تو آغاز میں ہی اللہ کا منادی آواز لگاتا ہے: یا باغي الخیر أقبل (اے خیر کے طلب گار آگے بڑھو)، یہ خیر کا بڑا موقع ہے، اللہ کو راضی کرنے اور نیکی کرنے کا اس سے بڑھ کر کیا کام ہوسکتا ہے؟ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو، آمین۔



Share: