تحریر: انعام الحق انصاری (ریٹائرڈ: ڈی ڈی سی)
رزق صرف مال و دولت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ الٰہی ہے، جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ کمانا کامیابی ہے، مگر میرے والد صاحب کی ایک سادہ مگر عمیق بات نے اس سوچ کو بدل دیا۔ اُنہوں نے فرمایا:
"کامیابی کا اصل ہنر کمانے میں نہیں بلکہ خرچ کرنے میں ہے۔" یہ جملہ بظاہر مختصر ہے، مگر اپنی معنویت میں بےحد وسیع۔ والد صاحب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان جو کماتا ہے وہ اس کا نصیب ہے، لیکن وہ اسے کیسے خرچ کرتا ہے — یہ اس کا کردار اور فہم ظاہر کرتا ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ جو کچھ اُسے ملا ہے، وہ محض اس کی محنت کا صلہ نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے۔ اور امانت کا حق یہ ہے کہ اسے درست جگہ اور صحیح نیت سے خرچ کیا جائے۔
خرچ کی ترتیب: کامیابی کا پوشیدہ راز
ایک موقع پر والد صاحب نے بہت سادہ مگر فکر انگیز مثال دی:
"اگر کسی کی آمدنی 50 ہزار روپے ہے، اور اُس کا خرچ 55 ہزار روپے ہے، تو وہ ساری زندگی کمانے کے باوجود پریشان رہے گا۔ اور اگر کسی کی آمدنی 30 ہزار روپے ہے، اور خرچ 25 ہزار ہے، تو وہ نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی گزارے گا۔"
پھر فرمایا: "اسی میں یہ راز پناہ ہے کہ کامیابی اصل میں کمانے میں نہیں بلکہ خرچ کرنے میں ہے۔"
یہ بات محض حسابی توازن نہیں، بلکہ ایک روحانی بصیرت ہے۔ خرچ میں توازن، قناعت، اور حکمت وہ عوامل ہیں جو انسان کو فقر و تنگی سے بچاتے ہیں، چاہے آمدنی کم ہی کیوں نہ ہو۔
رزق میں برکت: مقدار سے زیادہ اہم شئے
والد صاحب اکثر رزق میں برکت کے پہلو پر زور دیتے تھے۔ اُنہوں نے کہا:
"اللہ تعالیٰ بعض اوقات رزق کی مقدار تو بڑھا دیتا ہے، مگر برکت نہیں دیتا، نتیجتاً وہ رزق فائدہ نہیں دیتا۔ اور بعض اوقات مقدار کم ہوتی ہے مگر اللہ برکت ڈال دیتا ہے، تو وہی رزق سکون، عزت، اطمینان اور چین کا ذریعہ بن جاتا ہے۔"
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ"(الاعراف: 96)
ترجمہ: "اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان و زمین سے برکتیں کھول دیتے۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ... مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ" (ترمذی)
ترجمہ: "قیامت کے دن بندے کے قدم اُس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اُس سے یہ نہ پوچھا جائے گا: مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔"
یہ دلائل اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ رزق کا اصل امتحان صرف اس کے ذرائع میں نہیں بلکہ اس کے مصارف میں ہے۔
کامیابی کا معیار: برکت، سکون اور قناعت
والد صاحب کے مطابق، اگر رزق اللہ کی رضا کے مطابق خرچ ہو — والدین کی خدمت، غرباء کی امداد، دین کی خدمت، اور عزتِ نفس کے ساتھ جینے کے لیے — تو وہی رزق بابرکت ہے، چاہے مقدار میں کم ہو۔ وہ کہتے:
"برکت یہ نہیں کہ کسی کے پاس لاکھوں کی امدنی ہو، بلکہ۔ رکت یہ ہے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہو، وہ تمہارے لیے کافی ہو جائے، تمہیں محتاجی کا احساس نہ ہو، اور تم اسے دوسروں کے لیے باعثِ راحت بنا سکو۔"
خلاصہ یہ کہ زندگی گزارنے کا شعور سیکھنا لازم ہے، بطور خاص رزق کے سلسلے میں دو چیزیں نہایت ہی اہم ہیں: پہلا یہ کہ اپنی استطاعت کہ بقدر خوب خوب محنت کی جائے، اور دوسرا یہ کہ اس محنت کے بدلے میں اللہ جو رزق عطا کر دے اس کو شکر کے جذبے کے ساتھ درست طریقے پر خرچ کیا جائے۔
رزق محض معاشی معاملہ نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف مقدار میں دیا ہے، لیکن اصل آزمائش اس میں نہیں کہ کتنا دیا، بلکہ اس میں ہے کہ کس نیت سے خرچ کیا، کن مقاصد کے لیے خرچ کیا، اور کس حد تک اللہ کی رضا ملحوظ رکھی۔
والد صاحب کی سادہ مگر پُر اثر باتیں آج بھی میرے دل میں گونجتی ہیں اور زندگی کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہیں۔ وہ دنیاوی کامیابی کو صرف "کمانے" سے نہیں جوڑتے بلکہ "خرچ کرنے" کی نیت، طریقہ اور دائرہ کو اصل پیمانہ سمجھتے ہیں — اور یہی وہ راز ہے جو زندگی کو سادہ، پُرسکون اور بابرکت بناتا ہے۔