Tuesday, July 1, 2025

آم کا ذائقہ اور معاشرے کا مزاج


✍️ والد محترم (انعام الحق) کی باتوں سے ماخوذ

آج والد محترم، جو کہ ایک کہنہ مشق افسر اور علم و حکمت کے خزانے ہیں، آم کی بات کرتے کرتے دل کی بات کہہ گئے۔

فرمایا:

"آج کل لوگ آم بھی صرف وہی پسند کرتے ہیں جو بہت زیادہ میٹھا ہو، جیسے 'مالدہ'۔ دوسری قسموں کے آم جو کبھی ذائقے، خوشبو یا ماضی کی یادوں کے لیے جانے جاتے تھے، وہ سب پیچھے رہ گئے۔ اب لوگ انہیں لینے تک تیار نہیں۔ اور جب خریدار نہیں، تو کسان بھی ان کی کاشت چھوڑ دیتا ہے۔"


حالانکہ کاشتکاری میں جدید کھاد، ہائبرڈ بیج، اور مارکیٹ کی دوڑ سے پہلے، ہمارے دیہاتوں میں مختلف اقسام کے آم بکثرت پائے جاتے تھے۔ ہر آم کی اپنی شناخت، خوشبو، ذائقہ، اور تہذیبی پہچان ہوتی تھی۔

خاص طور پر متھلانچل کے علاقے میں آموں کے نام ان کی صفات، رنگت، شکل یا ذائقے کی بنیاد پر رکھے جاتے تھے۔ والد صاحب نے ان کے چند نام اور صفات کچھ یوں بتائیں:


🔸 سندوریہ – اس آم کے اوپری حصے پر پکنے پر سرخی آ جاتی تھی، جیسے سندور۔

🔸 گھیاما – اس آم کی بناوٹ اور ذائقہ بالکل گھی جیسا، نرم، رس دار۔

🔸 دو-امّاں: اس آم کے درخت کی خصوصیت یہ ہوتی تھی کہ اس میں جڑواں آم ہوتے تھے۔

🔸 دودھ دمّاں: اس آم میں دودھ کی کثرت کی وجہ سے اس کا نام دودھ اور آم سے ملا کر دودھ امّاں رکھا گیا۔

🔸 سفیدا – پکنے کے بعد اس پر ایک خوبصورت سفیدی چھا جاتی تھی۔

🔸 بیلوا – یہ آم بیل کے پھل جیسی شکل و جسامت کا ہوتا تھا۔

🔸 پیلو اہوا: زیادہ پک جانے پر اس آم میں پیلو کی کثرت ہوجاتی تھی اس لیے اس آم کو پیلو اہوا کہا جاتا تھا۔

🔸 چھپرہوا – بڑی گٹھلی والا مگر خوشبو دار، خاص مہمانوں کے لیے رکھا جاتا تھا۔

🔸 کٹھوروا – اس کا کچھ حصہ نرم، کچھ سخت ہوتا تھا؛ ذائقے میں ایک الگ قسم کی پیچیدگی لیے ہوئے۔

یہ تمام نام صرف آم نہیں تھے، بلکہ ایک خطے کی زبان، یادیں، اور ذائقوں کی جیتی جاگتی لغت تھے۔


لیکن افسوس، اب صرف ایک ہی معیار رہ گیا ہے: "زیادہ میٹھا ہو، خوشنما ہو، مشہور ہو۔"

اور یہی سوچ آہستہ آہستہ ہمارے معاشرتی رویوں میں بھی سرایت کر گئی ہے۔

ہم نے ہر چیز کو صرف فائدہ، چمک، اور فوری لذت کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔

اب معاشرے میں بھی وہی لوگ اہم سمجھے جاتے ہیں جو "میٹھے مالدہ" کی طرح سب کو بھا جائیں۔

جو لوگ منفرد ہوں، اپنے انداز میں کھٹے میٹھے ہوں، یا جن کے ذائقے کو سمجھنے کے لیے صبر درکار ہو، وہ نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔


یہ صرف آم کی اقسام کا خاتمہ نہیں، یہ انسانوں کی انفرادیت، روایات، تنوع، اور اصل مزاج کا زوال ہے۔ ہماری قدریں، تعلقات، اور سوچ — سب "مارکیٹ ویلیو" پر پرکھے جا رہے ہیں۔


والد صاحب کی آم والی بات نے ایک پوری تہذیب کی بیماری پر روشنی ڈال دی۔ یہ صرف ذائقے کی تبدیلی نہیں، یہ ترجیحات کی تبدیلی ہے اور جہاں ترجیح صرف "چاہے جانے" اور "چکھے جانے" کی ہو، وہاں اصل ذائقے مٹ جاتے ہیں، اور صرف "باقی سب جیسا" باقی رہ جاتا ہے۔

Share:

Monday, June 9, 2025

رزق کا فلسفہ: کامیابی کمانے میں نہیں، خرچ کرنے میں ہے


تحریر: انعام الحق انصاری (ریٹائرڈ: ڈی ڈی سی)

رزق صرف مال و دولت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ الٰہی ہے، جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ کمانا کامیابی ہے، مگر میرے والد صاحب کی ایک سادہ مگر عمیق بات نے اس سوچ کو بدل دیا۔ اُنہوں نے فرمایا:

 "کامیابی کا اصل ہنر کمانے میں نہیں بلکہ خرچ کرنے میں ہے۔" یہ جملہ بظاہر مختصر ہے، مگر اپنی معنویت میں بےحد وسیع۔ والد صاحب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان جو کماتا ہے وہ اس کا نصیب ہے، لیکن وہ اسے کیسے خرچ کرتا ہے — یہ اس کا کردار اور فہم ظاہر کرتا ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ جو کچھ اُسے ملا ہے، وہ محض اس کی محنت کا صلہ نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے۔ اور امانت کا حق یہ ہے کہ اسے درست جگہ اور صحیح نیت سے خرچ کیا جائے۔

خرچ کی ترتیب: کامیابی کا پوشیدہ راز

ایک موقع پر والد صاحب نے بہت سادہ مگر فکر انگیز مثال دی:

"اگر کسی کی آمدنی 50 ہزار روپے ہے، اور اُس کا خرچ 55 ہزار روپے ہے، تو وہ ساری زندگی کمانے کے باوجود پریشان رہے گا۔ اور اگر کسی کی آمدنی 30 ہزار روپے ہے، اور خرچ 25 ہزار ہے، تو وہ نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی گزارے گا۔"


پھر فرمایا: "اسی میں یہ راز پناہ ہے کہ کامیابی اصل میں کمانے میں نہیں بلکہ خرچ کرنے میں ہے۔"

یہ بات محض حسابی توازن نہیں، بلکہ ایک روحانی بصیرت ہے۔ خرچ میں توازن، قناعت، اور حکمت وہ عوامل ہیں جو انسان کو فقر و تنگی سے بچاتے ہیں، چاہے آمدنی کم ہی کیوں نہ ہو۔


رزق میں برکت: مقدار سے زیادہ اہم شئے

والد صاحب اکثر رزق میں برکت کے پہلو پر زور دیتے تھے۔ اُنہوں نے کہا:

 "اللہ تعالیٰ بعض اوقات رزق کی مقدار تو بڑھا دیتا ہے، مگر برکت نہیں دیتا، نتیجتاً وہ رزق فائدہ نہیں دیتا۔ اور بعض اوقات مقدار کم ہوتی ہے مگر اللہ برکت ڈال دیتا ہے، تو وہی رزق سکون، عزت، اطمینان اور چین کا ذریعہ بن جاتا ہے۔"


قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 "وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ"(الاعراف: 96)

ترجمہ: "اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان و زمین سے برکتیں کھول دیتے۔"


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 "لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ... مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ" (ترمذی)

ترجمہ: "قیامت کے دن بندے کے قدم اُس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اُس سے یہ نہ پوچھا جائے گا: مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔"


یہ دلائل اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ رزق کا اصل امتحان صرف اس کے ذرائع میں نہیں بلکہ اس کے مصارف میں ہے۔


کامیابی کا معیار: برکت، سکون اور قناعت

والد صاحب کے مطابق، اگر رزق اللہ کی رضا کے مطابق خرچ ہو — والدین کی خدمت، غرباء کی امداد، دین کی خدمت، اور عزتِ نفس کے ساتھ جینے کے لیے — تو وہی رزق بابرکت ہے، چاہے مقدار میں کم ہو۔ وہ کہتے:


"برکت یہ نہیں کہ کسی کے پاس لاکھوں کی امدنی ہو، بلکہ۔ رکت یہ ہے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہو، وہ تمہارے لیے کافی ہو جائے، تمہیں محتاجی کا احساس نہ ہو، اور تم اسے دوسروں کے لیے باعثِ راحت بنا سکو۔"


خلاصہ یہ کہ زندگی گزارنے کا شعور سیکھنا لازم ہے، بطور خاص رزق کے سلسلے میں دو چیزیں نہایت ہی اہم ہیں: پہلا یہ کہ اپنی استطاعت کہ بقدر خوب خوب محنت کی جائے،  اور دوسرا یہ کہ اس محنت کے بدلے میں اللہ جو رزق عطا کر دے اس کو شکر کے جذبے کے ساتھ درست طریقے پر خرچ کیا جائے۔


رزق محض معاشی معاملہ نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف مقدار میں دیا ہے، لیکن اصل آزمائش اس میں نہیں کہ کتنا دیا، بلکہ اس میں ہے کہ کس نیت سے خرچ کیا، کن مقاصد کے لیے خرچ کیا، اور کس حد تک اللہ کی رضا ملحوظ رکھی۔


والد صاحب کی سادہ مگر پُر اثر باتیں آج بھی میرے دل میں گونجتی ہیں اور زندگی کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہیں۔ وہ دنیاوی کامیابی کو صرف "کمانے" سے نہیں جوڑتے بلکہ "خرچ کرنے" کی نیت، طریقہ اور دائرہ کو اصل پیمانہ سمجھتے ہیں — اور یہی وہ راز ہے جو زندگی کو سادہ، پُرسکون اور بابرکت بناتا ہے۔

Share: